پاکستانی اور دیگر ترجمان اب چاہے کتنی ہی نرم سفارتی زبان میں صدر آصف زرداری کے دورہٴ ایران کی منسوخی یا (التوا؟) کی کچھ بھی تاویل اور وضاحت پیش کریں، لیکن ہر طرف سے ملنے والی اطلاعات یہ حقیقت واضح کر رہی ہیں کہ صدر زرداری کا مجوزہ اہم دورہٴ ایران آخری لمحات میں نہ صرف امریکی ناراضگی اور دباؤ کے تحت منسوخ کرنا پڑا بلکہ صدر زرداری کو اپنے اس جوشیلے اور عوامی جذبات ابھارنے والے بیان کو بھی یکسر بھلا کر اس کے برعکس عمل کرنا پڑا ہے، جو انہوں نے350 روز قبل 27 دسمبر 2011ء کو دیتے ہوئے بڑی جرأت سے دعویٰ کیا تھا کہ پاک ایران پائپ لائن پاکستان اور اس کی مستقبل کی نسل کیلئے لازمی ضرورت ہے اور لازماً بن کر رہے گی، کیونکہ صدر زرداری کے الفاظ میں ”ہم اپنے بچوں کی فکر کریں یا آپ کے نخروں کی فکر کریں“ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا تھا کہ ہم کسی جنگ کے تھیٹر میں داخل نہیں ہوں گے۔ان کے بیان کا واضح مطلب یہ تھا کہ پاک ایران پائپ لائن کے سلسلے میں ہمیں نہ تو امریکہ کی ناراضگی (نخرے) کی پروا ہے اور نہ ہی پاکستان، ایران کے خلاف جنگ کے کسی امریکی اقدام کا شریک کار ہوگا۔ صدر زرداری کے اعلان کے پہلے حصے کی عملی حقیقت تو دسمبر کے پہلے ہفتے میں پاکستانی قوم کے سامنے آگئی ہے، خدا نہ کرے کہ ان کے اسی بیان کے دوسرے حصے کی ایسی کوئی متضاد عملی حقیقت سامنے نہ آئے۔ افغانستان کی دو جنگوں کے تھیٹر میں بطور اتحادی شرکت کرکے پاکستان نے جو تباہی اپنے اوپر لے کر بھی جو کچھ حاصل کیا وہ قوم اور دنیا کے سامنے ہے، اب اپنے دوسرے ہمسائے ایران کے خلاف کسی جنگ کے تھیٹر میں شرکت تو پاکستان برداشت ہی نہیں کر سکے گا۔ صدر زرداری کے دورہٴ ایران کی اچانک منسوخی یا تبدیلی پاکستانی سرکار، حکمراں پارٹی اور اتحادیوں کیلئے ایک بری خبر ہے اور ہر بری خبر کسی کیلئے اچھی اور خوشخبری لئے ہوئے ہوتی ہے۔ اس کا اچھا پہلو مجھے یہ نظر آتا ہے کہ پاکستانی عوام پر یہ حقیقت مزید واضح ہوئی ہے کہ ہمارے حکمران عوام کے سامنے کتنے ہی جرأت مندانہ دعوے کر لیں، اقتدار کی طاقت استعمال کرکے اپنے عوام کو کتنا ہی کچل ڈالیں، یہ اپنے غیر ملکی آقاؤں کے سامنے انتہائی کمزور، بے بس اور ان کی شرائط کی تعمیل کرکے ہی اقتدار میں آتے اور رہتے ہیں اور یہ کوئی نظریہ سازش نہیں بلکہ اس کی حقیقت وقتاً فوقتاً عوام کے سامنے بھی کھل کر آ جاتی ہے۔ممکن ہے سفارت کاری اور حکمرانوں کے مداحوں کی جانب سے یہ تاویل اور دلیل دی جائے کہ سپر پاور، ڈپلومیسی اور عالمی حقائق اور قومی مفادات کی مجبوریوں کے تحت بعض اوقات ایسے ناپسندیدہ فیصلے کرنا پڑتے ہیں، اگر موجودہ دور کی اس تلخ حقیقی دلیل کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو میری عرض ہے کہ صدر زرداری اور ان کے مشیروں اور معاونین کو یہ حقیقت بھی معلوم تھی کہ بھارت بھی ایرانی پائپ لائن میں دلچسپی رکھتا تھا اور کافی کام بھی ہوچکا تھا، لیکن امریکی دباؤ اور اعتراضات کے باعث وہ نہ صرف پیچھے ہٹ گیا بلکہ اس نے امریکہ سے اس کے بدلے تاریخی مراعات بھی حاصل کیں۔ امریکہ کا دباؤ اور بھارتی فیصلہ پاکستانی حکمرانوں کے سامنے ایک عملی نمونہ اور سپرپاور کے دباؤ کا عملی نتیجہ کے طور پر تھا۔ صدر زرداری، وزارت خارجہ، مشیران اور معاونین کو امریکی دباؤ اور اعتراض کے معاملے میں اس بھارتی عملی نمونہ اور فیصلہ کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے تھا کہ اگر علاقے کا بڑا ملک امریکی دباؤ برداشت نہیں کرسکا تو مغربی ممالک کی پابندیوں کے شکار ایران کے بارے میں صدر زرداری کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ آگے بڑھ کر 2011ء میں اتنے جوشیلے اور ناقابل عمل بیان کی کیا ضرورت تھی؟ اگر عوامی مقبولیت کیلئے ایران سے پائپ لائن اور کسی نئی جنگ کے تھیٹر میں شریک نہ ہونے کا اعلان کر ہی ڈالا تھا تو پھر ایک سال کے عرصہ میں ان حقائق کا ادراک کرکے خاموشی زیادہ بہتر حل تھا نہ کہ ایران میں معاہدے اور دستاویزات کی تیاریوں کے ساتھ دورہٴ ایران کی تاریخ کا اعلان اور پھر آخری لمحات میں دورہ کی منسوخی کرنے کا اقدام یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستانی حکمراں دور حاضر کے حقائق، غور وفکر اور دور اندیشی سے قومی مفادات کی حفاظت سے دلچسپی کی بجائے صرف اپنے غیرملکی سرپرستوں کی خوشنودی یا ناراضگی کے دباؤ میں کام اور فیصلے کرتے ہیں۔صدر زرداری کے دورہٴ ایران کی منسوخی سے جہاں ہمارے حکمرانوں کی آزادی، قوت فیصلہ اور دانشمندی کا بھرم کھلا ہے وہاں پڑوسی ایران کو بھی ایک بار پھر مایوسی ہوئی ہے۔ اسی پائپ لائن کے سلسلے میں بعض ایرانی عہدیداروں کا یہ بیان کس قدر چبھتا ہوا ہے کہ اگر ہمارے پاکستانی بھائی ”پختہ عزم“ اور ”عمل“ سے اس پائپ لائن کے منصوبے پر عمل کریں تو ایران اس سے بھی زیادہ بڑھ کر پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہے۔"روزنامہ جنگ"
12 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 371839
صدر زرداری کے دورہٴ ایران کی منسوخی سے جہاں ہمارے حکمرانوں کی آزادی، قوت فیصلہ اور دانشمندی کا بھرم کھلا ہے وہاں پڑوسی ایران کو بھی ایک بار پھر مایوسی ہوئی ہے۔ اسی پائپ لائن کے سلسلے میں بعض ایرانی عہدیداروں کا یہ بیان کس قدر چبھتا ہوا ہے کہ اگر ہمارے پاکستانی بھائی ”پختہ عزم“ اور ”عمل“ سے اس پائپ لائن کے منصوبے پر عمل کریں تو ایران اس سے بھی زیادہ بڑھ کر پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہے۔